ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بجرنگ دل بےلگام، اقلیتوں پر حملوں کا سلسلہ جاری، مرادآباد کے ایک جوس سینٹر میں توڑ پھوڑ کی وڈیو وائرل

بجرنگ دل بےلگام، اقلیتوں پر حملوں کا سلسلہ جاری، مرادآباد کے ایک جوس سینٹر میں توڑ پھوڑ کی وڈیو وائرل

Sun, 26 Dec 2021 12:18:24    S.O. News Service

مراد آباد ، 26؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) اتر پردیش کے مراد آباد میں ’نیو سائی جوس سینٹر‘ نامی دکان میں گھس کر مبینہ طور پر بجرنگ دل کے کارکنوں نے بری طرح توڑ پھوڑ مچائی اور  دکان کو اس وجہ سے بند کرو ادیا کیونکہ اس دکان کوایک مسلم شخص چلارہا تھا۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ماجھولا نامی علاقےمیں شبو خان نامی ایک شخص گزشتہ 15 سالوں اس جوس سینٹر کو چلارہا تھا۔ دائیں بازو کی تنظیموں کےلوگوں نے جمعرات کو دکان میں گھس کر نہ صرف توڑ پھوڑ کی بلکہ شبوخان کی خوب پیٹائی بھی کی۔ انہیں اس دکان کےنام کولے کر اعتراض تھا۔

بجرنگ دل کے کارکنوں کاکہنا تھا کہ سائی بابا ہندو دیوتا ہے اور ایک مسلمان دکاندار کو اپنی دکان کا نام بدلنا چاہیے۔

انہوں نے اس بات کی بھی دھمکی دی کہ وہ اس علاقے میں مسلمانوں کےذریعہ چلائی جارہی ان تمام دکانوں کو بند کروا دیں گے ، جن کے نام ہندو دیوی دیوتاؤں کے نام پر رکھے گئےہیں ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ پہلے تو پولیس اس معاملے پر خاموش تماشائی بنی رہی لیکن بعد میں جب واقعے کی وڈیو وائرل ہونے لگی تو بجرنگ دل کے مقامی رہنما نونیت شرما اور ان کے ساتھیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق پولیس نے یہ کارروائی اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے کے بعد کی۔ ماجھولا تھانے کے ایس ایچ او دھنجے سنگھ نے بتایا کہ 20 سے 25 لوگوں کی شناخت کی گئی ہے۔ پولس نے یہ بھی مانا ہے کہ ان لوگوں نے مسلمان دکاندار کو تھپڑ بھی مارا۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے دکان کے مالک شبو خان ​​سے بھی کہا ہے کہ وہ مزید پریشانی سے بچنے کے لیے اپنی دکان کا نام تبدیل کرے۔

شبو خان ​​نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ کچھ لوگ آئے اور ان کی دکان میں توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ مجھے دکان بند کر دینی چاہیے اور اس کے پیچھے کی وجہ بتائی کیونکہ وہ مسلمان ہے۔شبو خان ​​نے کہا کہ یہ دکان ان کی اور ان کے خاندان کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔بجرنگ دل کے کارکنوں نے شبو خان ​​کے خلاف ہی پولیس میں شکایت دے دی تھی لیکن پولیس نے کہاکہ ان کی شکایت میں کوئی دم نہیں ہے ۔


Share: